سقوطہ ڈھاکہ اور اس کے اہم حقائق 

دسمبر16  کا دن پاکستان کی تاریخ میں ان کالےسیاۂ با دلوں کی ماند ہے جو کٹائی کےموسم میں برس کر کسانوں کی ساری خوشیاں بہا کر لے جاتے ہیں۔اے پی ایس  سکول پر تحریک  طالبان کا حملہ  جس  میں 140سے زائد معصوم   بچوں  کو شہید  کیا گیا   اور پاکستانی  فوج کا نہ چاہتےھوئے بھارتی فوج کے آگے سرینڈر اس دن کے سوگواربننے کا سبب بنے-اس تحریک کامقصد ان حقائق پر روشنی ڈالنا  ہے جس سے پاکستانی عوام50 سال گزر جانے کے باوجودناواقف ہیں ۔ اس داستان کا آغازسپاہیوں کی بغاوت سے  زور پکڑنے والی 1857کی جنگ آزادی سے ہوتا ہے۔قارئین کے علم   میں اضافے  کے لیے اس  بات پر روشنی  ڈالنا  ضروری ہے کہ اْن سپاہیوں کی بغاوت میں کثیرتعداد بنگالی سپاہیوں کی تھی۔یہی وجہ ہے کہ اْس جنگ آزادی میں مسلمانوں کی شکست کے بعد  انگریزوں نے بنگالیوں پرظلم  کے پہاڑتوڑدیے  تھے۔اس کے ساتھ ہی بنگالیوں  پر   تعلیم  اْور  سرکاری  ملازمت  کے  دروازے بند کر دئیےگئے تھے ۔ ان سب ظلم  و ستم کے باوجود  بنگالیوں نے آزادی کے لیے جدوجہد د جاری رکھی۔اس کا اندازہ  اس بات  سے لگایا جاسکتا ہے کہ  1937ء میں جب مسلم لیگ کو انڈین  کانگریس  کے مقابلے  میں مسلم  اکژیت  علاقوں میں شکست ہوئی تو وہ بنگالی  ہی تھے  جنہوں  نےقائد اعظم کی شخصیت کو برصغیر کی  اہم سیاسی  شخصیت   کے روپ میں  قائم  رکھا۔صدیوں کی   بربریت  اور اذیت  کے بعد 14 اگست   1947ء    کو جب پاکستان وجودمیں آیاتوبنگالیوں نے سکھ کے سانس لیے  کہ اب  ان کے آزمائش کےدن ختم  ہوئے ۔ اْ ن کو اس بات کا کیا علم تھا کہ ان کے اپنے بھائیوں کے ہاتھوں ایک اورآزمائش ان کا   انتظارکررہی تھی    ۔

آزادی حاصل کرنے کی خوشی ابھی ہوا میں باقی تھی کہ بنگالیوں کے اعتبار  کو ٹھیس پہنچی جب قائد اعظم نے صرف اْردو کو سرکاری  زبان کا درجہ دینے کا اعلان کیا۔یہ بات بھی تاریخ کا حصہ  ہے کہ اس وقت پاکستان کے دونوں حصوں میں سے مشرقی پاکستان میں اکژیت لوگ بستے تھے۔اس کے برعکس قائد کا اْردو کو سرکاری زبان تسلیم کرنے کا  فیصلہ اس بنیاد پر تھا کہ اْردو وہ زبان تھی جو پاکستان اور ہندوستان میں بڑے پیمانے پر بولی جاتی تھی جب کہ بنگالی صرف بنگال کے محدود علاقوں میں بولی جاتی تھی۔قائد کے اس فیصلے کے خلاف 1952ء میں بنگالی زبان تحریک کا بھی آغاز کیا گیا۔بنگالیوں کی اپنی زبان کے حق میں جدوجہد اس وقت رنگ لائی جب 1956ء کے آئین میں 9ءسال کے طویل عرصے بعد اْردو کے ساتھ بنگالی کو بھی سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا۔ایک دوسرے سے  2000ء  کلومیٹر  کے فاصلے پر قائم  ، پاکستان کے یہ دونوں حصے ایک دوسرے کے لیے محبت کے بجائے  بغض لیے چلتے رہے۔یہی وجہ ہے کہ 1971ء تک پاکستان کا کوئی فنانس، چیف یا منصوبہ بندی کا سیکٹری  مشرقی  پاکستان سے نہیں تھا۔سابق سیکٹری  وزارتِ خارجہ،ریاض کھوکر کے بقول پاکستان کو ملنے والے بنگالی وزیرِ اعظم حسین شہید  سہروردی جو عوامی لیگ کے بانی بھی تھے،ایک اعلَی پائے کے وزیرِاعظم تھے لیکن ان کو بھی شازش کی نظر کر  دیا گیا۔یاد رہے کہ مجیب الرحمان ، جن کو بابائے بنگلہ دیش  بھی کہا جاتا ہے حسین شہید سہروردی  کے شاگرد تھے۔

مشرقی اور مغربی  پاکستان کے مابین دوریاں اس وقت اور گہرائیوں  میں چلی گئیں  جب 1965 کی جنگ میں مشرقی پاکستان کہ بے یارو مدد گار چھوڑ دیا گیا۔اس کی تصدیق تاریخ کی مْستند کتابوں سے کی جا سکتی ہے کہ کس طرح مشرقِی پاکستان  کو دفاعی لحاظ سے غیر محفوظ چھوڑا گیا۔تاریخ دان اس بات کا بھی اعتراف کرتے ہیں  کہ اگر بھارت چاہتا تو اس وقت ہی مِشرقی پاکستان  پرقبضہ کر سکتا تھا لیکن شائد قدرت کو مغربی پاکستان کی غلطیوں کی سزا سقوط ڈھاکہ کے طور پر منظور تھی۔یہی وہ وقت تھا جب 1966ء میں مجیب الرحمان نے 6 ء نکات پیش کیے، جو آگے جا کے پاکستان کے دو لخاط ہونے کی وجہ بنے۔ان نکات کے پیش ہونے سے مشرقی پاکستان کی ٹرین  آزادی کی پٹری پر چڑھ چکی تھی۔اْور اس ٹرین کو چلانے والا  ہمارا درینہ دشمن بھارت تھا۔بھارت کے ناپاک عزائم کا اندازہ اگرتلہ سازش کیس1968ء سے لگایا جا سکتا ہے جس میں پاکستان کی انٹیلیجینس ایجنسی نے بنگالی- بھارتی گٹھ جوڑکا راز فاش کیا تھا۔اگرچہ ملک کے سنگین حالات کے پس منظر میں ملزمان کو سزا  نہ مل سکی لیکن اس  سازش کا اعتراف ملزم سکاوت علی نے 2011ءمیں کیاجو  کہ14-2009ء تک بنگلہ دیش قانون ساز اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر  بھی رہے۔مشرقی اور مغربی پاکستان کے اس نازک رشتے کو ایک اور کاری ضرب  لگی جب جنرل ایوب  خان نےاستعفٰی دیا اور اقتدا رکی منتقلی 1962ء کے آئین  کے مطابق قومی اسمبلی کے سپیکر عبدل جبار خان کو کرنے کے بجائے  جنرل یحیٰی خان کو کر دی ۔عبدل جبار خان کا تعلق مشرقی جبکہ یحیٰحی خان کا تعلق مغربی پاکستان سے تھا۔یحیٰی خان نے 30 ءجون 1970ء کو ون یونٹ ختم کر کے ایک بندہ ایک ووٹ کا بنیاد پر الیکشن  کروانے کا اعلان کیا۔7دسمبر 1970ءکے الیکشن میں مشرقی پاکستان سے مجیب الرحمن مکمل طور پر کامیاب ہوئےجب کہ مغربی پاکستان میں ذولفقار علی بھٹو نے 4  صوبوں میں سے دو صوبوں سندھ اور پنجاب میں واضح اکژیت حاصل کی۔ عوامی لیگ کی کْل  سیٹوں کی   کل تعداد 160 جبکہ بھٹو صاحب کی پیپلز پارٹی سیٹوں  کی تعداد 81 تھی ۔اس طرح مجیب الرحمَان کا عوامی لیگ نے 300 جنرل  نشستوں پر واضح اکژیت حاصل کر لی۔

جنرل یحیٰی خان نے الیکشن سے پہلے جاری کردہ لیگل فریم ورک آرڈر کے تحت منتخب حکومت  کو 120دنوں کے اندر نیا آئین منظوری  کے لیے پیش کرنا کا پابندکیا۔ لیکن مجیب الررحمٰان  بضد تھےکے نیا آئین ان کے 6 نکات کے ماتحت ہو گاجہ کہ بھٹو اور مغربی پاکستان  کی اسٹیبلیشمینٹ کو نہ منظور تھا۔ان نکات میں سے دونوں حصوں کے لیے الگ الگ کرنسی ،ملٹری فورس اور الگ الگ ذرِمبادلہ کے اکاونٹ  پر مغربی پاکستان میں سنگین شک و شبہات تھے۔اس کے برعکس مجیب الرحمٰان  ٹس سے مس ہونے کو تیار نہ تھےاور یہی وجہ ہے کہ الیکشن جیتنے کہ بعد اْنھوں نے مغربی پاکستان کا سفر نہ کیا۔اس دوران 30 جنوری  کودو بظاہر   کشمیری ایک بھارتی جہاز ہائی جیک کر کے لاہور ائیر پورٹ  اتار لیتے ہیں ۔پاکستانی حکام ان سے مزاکرات کر کے تمام بھارتی مسافروں کو با خیریت  و آفیت اْتار لیتے ہیں ۔اسی دوران جہاز جل جاتا ہے اور اس کو بنیاد  بناتے ہوئے بھارت پاکستان کے لیے فضائی حدود بند کر دیتا ہے کہ جبکہ کسی ایک بھی بھارتی جان کا نقصان نہیں ہوا ہوتا ۔پاکستانی حکام  کی تفتیش کے بعد یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ چال اگلے آنے والے  وقت کے لیے کی گئی تھی۔جنرل یحیٰحی خان فروری میں اور پھر 3مارچ 1971ء کو قانون ساز اسمبلی کے اجلاس کا اعلان کرتے ہیں ۔لیکن مجیب اور بھٹو میں مزاکرات نہ ہونے کے باعث اجلاس موخر کر دیا جاتا ہے جو مجیب الرحمٰان کو کسی صورت قبول نہیں تھا۔اس پر عوامی لیگ کی جانب سے سول نافرمانی تحریک کا آغاز کیا جاتا ہےجو مشرقی پاکستان میں دنگا  و فساد کا بازار  گرم کر دیتی ہے۔عوامی لیگ کے عسکریت پسند  مشرقی پاکستان کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں جب کہ جنرل یحیٰحی کے سخت حکم کے تحت فوج کوصرف سنگین صورت میں ہیءبیرک سے نکلنے کی اجازت تھی۔حالات اس قدر سنگین ہو گئے کہ 24 مارچ 1971ء کو عوامی لیگ کے 800 لوگوں نے غیر بنگالی باشندون پر حملہ کیا اور ان کے 50 گھر جلا دیے۔حالات کی سنگینی اور عوامی لیگ کی جانب سے بھارتی اسلحہ کے استعمال پر جنرل یحیٰحی  خان نے اوپریشن سرچ  لائٹ کا حکم دیا۔ملٹری اپریشن ہی وہ وقت تھا جب جنرل  یحیٰحی خان پر آر یا  پار  کی صورتحال آئی اور وہ اس کو نہ سنبھال سکے ۔یاد رہے کہ مشرقی پاکستان  کے جنرل اور گورنر  یحیٰحی خان کے ماتحت تھے او راس ملٹری اوپریشن کے خلاف تھےلیکن بھٹو اور چند جرنیلوں کے دباومیں اوپریشن کا اعلان کر دیا گیا۔مجیب الرحمٰان جو کہ تاریخ کے مطالعے سے موقع پرست معلوم ہوتے ہیں۔اْنہوں  نے اوپریشن سے پہلے ہی اپنے ایڈوئزر ڈاکٹرکمال حسین کو زمباوئے کی طرز پر آزادی کا یکطرفہ اعلان کرنے کے لیے مسودہ تیار کرنے کا کہہ دیا تھا۔25 مارچ 1971ء  کی شام مجیب الرحمٰان کا ریکارڈکیا ہوا بیان ایک نہ معلوم   ریڈیو سگنل کے ذریعے نشر کیا جاتا ہےجس میں وہ  بنگلہ دیش کی آزادی کا اعلان کرتے ہیں۔25مارچ  کی رات ہی اوپریشن سرچ لائٹ کا آغاز  ڈھاکہ یونیورسٹی سے کیا جاتا ہے۔جس کو عسکریت پسندوں نے اپنا گڑھ بنایا ہوا تھا۔عسکریت پسندوں کی موجودگی کااعتراف عبدل موئن چودھری نے اپنی کتاب میں کیا   جو کہ اس وقت ڈھاکہ یونیورسٹی میں پڑھاتے تھے اور اس وقت موجود تھے  ۔اس کے علاوہ ایک اور بھارتی پروپیگنڈاہے کہ فوج نے ڈھاکہ یونیورسٹی کے روکیا حال پر حملہ کیا۔اس الزام کو انڈین بنگالی شرمیلا بوس نے اپنی کتاب  میں رد کیا ہے۔ان کے بقول وہ یونیورسٹی ہال فوج کے آنے سے پہلے ہی خالی کر دیا گیا تھا۔مشرقی پاکستان میں موجود  فوج  میں سے ایسٹبنگال ریجمنٹ نے بغاوت کی اور مکتی باہنی کے ساتھ مل گئی۔اس کے بعد سےیہ اوپریشن کم اور دو فریقوں کے درمیان خانہ جنگی کا آغاز  تھا ۔یہ بات بھی ریکارڈ میں موجود ہے کہ فوج کی تعداد کم ہونے کے باوجود اپریل کے آخر تک مکتی باہنی اور تشددپسند لوگوں کو قابو میں کر لیا  گیا تھا ۔ مشرقی  پاکستان کی کچھ تنظیمیں اس جدوجہد میں افواج کے شانابشانا تھیں۔ان میں الشمس اور البدر جیسی  تنظیمیں شامل تھیں۔بھارت جو اپنی مشرقی پاکستان میں کی گی انوسیمنٹ کو ڈوبتے ھوئے دیکھ رھا تھااس نےکھل کر میدان میں انے کا فیصلہ کیا اورمکتی باہنی  کی مدد کرنے کے لیے اوپریشن جیک پوٹ سٹارٹ کیا اس اوپریشن کی آڑ میں بھارتی فوج مکتی باہنی  کے لباس میں ملبوث ہو کےمغربی پاکستان کی فوج پر حملہ آور ہو ئے لیکن بھارت کو اس میں بھی منہ کی کھانی پڑی اور مکتی باہنی  کے لباس میں مبلوث 5000 بھارتی فوجی مارے گئے۔اس بات کا اعتراف بھارتی وزیراعظم موراجی دیسائی نے خود کیا جو تاریخ  میں قلمبند ہو گیا بھارت نے اپنی ائیرفورس کی مدد سے مغربی پاکستان کی فوج کو نقصان پہنچایا لیکن پاکستان اس کا جواب موثر طریقے سے نہ دے سکاکیونکہ بھارت ایک چال کے ذریعےفصائی حدود پہلے ہی بند کرچکا تھا۔اکتوبر1971تک مغربی پاکستان کی42000فوج کے مقابلے میں بھارتی 200000اورمکنی باہنی کے 100000فوجی جنگ لڑرہےتھے۔11دسمبر تک مغربی فوج کو پوری طرح گھیر لیا گیااوریہاں سے جیت کا چانس بلکل ختم ہو چکا تھااسی دوران14 دسمبر کو راولپنڈی سے ڈھاکہ میں موجوداحکام کو یہ پیغام بھیجا گیا کہ جنگ کو روکنے کے لیے اور  مزید جانی نقصان سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جائیں ان احکامات کی تعمیل میں پاکستان  نے 16دسمبر1971 کو بھارتی افواج کے آگے سرنڈرکردیا۔اس وقت کےبھارتی فوج کے سربراہ جنرل سیم میکن شاہ نے ایک انٹرویو میں اس بات کا اعتراف کیا کہ”پاکستانی فوج بڑی دلیری سے لڑی لیکن ہمارے پاس ان کے ایک فوجی میں اتنے فوجی تھے کہ ان کے جیتنے کا کوئی راستہ نہیں تھا” اس جنگ کے دوران پاکستانی فوج کے خلاف جو افواہیں پھلائیں گئیں ان کے عقلی جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں کسی قسم کی صداقت نہیں۔

 اس طرح30 لاکھ لوگوں کے قتل کا الزام جو پاکستان فوج پر لگایا تھا محض افواہ کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ اس کا تحقیقی جائزہ ملاخطہ کئیجے جس سے آپ پرحقیقت واضح ہو جائے گی سب سے پہلے عقلی جواز کی روشنی میں اس افواہ کا جائزہ لیں۔ پاکستان کے کل فوجیوں کی تعداد42000تھی۔اور یہ جنگ262دن چلی 30لاکھ قتل262دن میں مطلب 11450روزانہ کے قتل یہ بات سمجھنا کوئی مشکل نہیں کہ 42000فوجیوں کاروز11450لوگوں کا قتل کرنا ناممکن سی بات ہے جبکہ ان کا سامنا 300000فوجیوں سے ہو۔یہ افواہ تخلیق کہاں سے کی گئی اس کے لیے ہمیں8جنوری1972کو دیکھنا پڑےگااس دن مجیب الرحمن آزاد ہو کر پہلی مرتبہ بنگلہ دیش پہنچے اس سے پہلے تاج دین بنگلہ دیش کہ وزیرعظم بن چکے تھے مجیب نے جب تاج دین سے ہلاکتوں کے بارے میں دریافت کیا تو بنگلہ دیش کہ وزیرعظم تاج دین نے 3لاکھ ہلاکتوں کا بتایا اس کے علاوہ اس وقت  بی بی سی کےصحافی سراج رحمان نے ایک انٹرویو میں اس3لاکھ ہلاکتوں کا حوالہ دیا لیکن مجیب الرحمن نے ایک انٹرویو میں اس 3لاکھ کو 30لاکھ بنا دیا اس کے بعد مجیب الرحمن نے ہلاکتوں کی اصل گنتی  معلوم کرنے کے لیے ایک 12رکنی کمیٹی تشکیل لیکن جب اس کمیٹی  کی تحقیق پر رپورٹ کا مسودہ مجیب الرحمن کو پیش کیا گیا تو اس میں صرف56743ہلاکتوں کا ذکر تھا۔  اس کو دیکھ کر مجیب الرحمن آپا کھو بیٹھے اور رپوٹ زمیں پر پھنکتے ہوئے بولے کے ”میں 30لاکھ کا اعلان کر چکا اور تم 3کی رقم تک نہ ڈھونڈ سکے” یاد رہے کہ وہ12 رکنی کمیٹی آزادی پسند عوامی لیگ کے 12 اہم رہنما تھے۔30لاکھ قتل کا رد شرمیلا بوس نے بھی کیا ہے ان کہ بقول اس جنگ میں ہلاک ہونے والے لوگوں کی تعداد50ہزار سے ایک لاکھ کے درمیان ہے اس کا حوالہ ان کی کتاب کے پیج نمبر181 سے لیا گیا ہے۔ اس بیانیہ کی وجہ پاکستان کی غیر ملکی صحافیوں کو مشرقی پاکستان سے نکالنا تھا کیونکہ مشرقی پاکستان سے منصفامہ خبر کا ذریعہ پاکستان نے خود بند  کر دیا تھا  ۔اس کے علاوہ ایک اور بیانیہ ہر زبان پےعام ہے  کہ بھارت نے 90000فوجیوں کو رہا کیا جب کہ یہ بات سراسر بے بنیاد ہے اس کا حوالہ کمال دین کی کتاب سے لیا جا سکتا ہے ان کہ بقول مشرقی پاکستان میں ایک لیفٹینٹ جنرل تھا ایک لیفٹینٹ جنرل کے  نیچے 3ڈویژن ہوتی ہیں اور ہر ڈویژن  میں 15000فوجی۔ اس کے تحت کل فوجی 45000 بنتے ہیں اس کے علاوہ سپورٹنگ سٹاف ہوتا ہے حقیقت میں کل 89981لوگوں کو شملا محاہدے کے تحت چھوڑا گیا تھاجن میں سے۵۱۹۸۷ فوجی تھےباقی سولین تھے۔ یہاں پے اس بات پر روشنی ڈالنا ضروری ہے کہ مکتی باہنی    نے آزادی  کی آڑ میں غیر بنگالیوں پر جوظلم ڈھائے وہ ایک الگ داستان ہے قطب الدین عزیز نے اپنی کتاب میں170 لوگوں کی آنکھوں دیکھی گواہیاں درج کی ہیں ان کے بقول55000لوگ مکتی باہنی     کے ہاتھوں مارے گئے۔ امریکن پروفیسر روڈولف رمل کے بقول مکتی باہنی نے      150000بہاریوں کو قتل کیا اسی دردناک کہانی کے حوالےعبدالموین چوہدری نے بھی اپنی کتاب میں دیےہیں اگر ان تمام دلائل کو بھی رد کر دیا جائے تو صرف ایک بنگلہ دیشی صدارتی آرڈر ہی اس بات کی تصدیق ہے کہ مکتی باہنی نے غیر بنگالیوں پر ظلم ستم کیا۔ 

بنگلہ دیش کی آزادی کی جدوجہد کا آرڈر 1973کےتحت قومی آزادی کی جدوجہد میں حصہ لینے والے افراد کو یکم مارچ1971 سے16دسمبر1971 کے درمیان کسی بھی عمل پر استثنا دیا گیا تھا. اگر مکتی باہنی نے کچھ غلط نہیں کیا تھا تو ان کواپنے ہی ملک میں استثنا کی ضرورت کیوپڑیَ؟ اس کا جواب پڑھنے والوں کی اپنی صوابدیر پر چھوڑنا بہتر ہے جہاں پے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے حوالے سے اس تحریر میں ہر پہلو میں روشنی ڈالی ہے وہاں پے اس بات کا زکر نہ کرنا ایک  نہ انصافی ہو گی کہ مغربی پاکستان نے اپنی غلطیوں سے آج تک سبق حاصل نہیں کیا اور آج کے دور میں نظر ڈالی  جائیے تو اپ کو وہ غلطیاں دوہراتی ہوئی نظر آئیں  گی سابق چیف جسٹس محمودالرحمن کی  سربرائی میں ایک کمیشن  بنایا  گیا تھا جس کا کام مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے حوالے سے  تحقیق کرنا تھا کیا وجہ بنی کے اس رپورٹ  کو آج تک پبلیش نہیں کرنے  دیا گیا اس رپورٹ میں جن غلطیوں  کا زکر کیا گیا تھا  اور جن لوگوں  پر الزام ٹھرایا گیا تھا ان کو آج تک انصاف کے کٹھیرے میں کیوں  نہیں کھڑا  کیا  گیا اسی وجہ سے آج تک غلطیوں کو سدارا نہیں جا سکا اس کی نشاندہی   کے لیے یہ کہنا کافی ہو گا کہ 74سال بعد بھی اس ملک نے کسی بلوچی کو اس قابل نہیں سمجھا جس کو اس ملک کا صدر تسلیم  کیا جا سکتا سوئی  سے نکلی ہوئی گیس میں ایسی کیا بات ہے کہ وہ ہزاروں میل  دور بیٹھے اقتدار کے نمائندوں کے چولھے تو جلاتی ہے مگر سوئی کے آس پاس کے شہریوں کو نصیب نہیں ہوتی۔    اس تحریر کا مقصد تاریح پے نظر ڈالنا تھا  اور ان حقائق سے پردہ اٹھانا تھا جو آج تک اس ملک کی عوام   کی نظروں سے پوشیدہ ہیں۔ تحقیق کا عمل ہمیشہ جاری رہتا ہے اس موضوع میں دلچسپی رکھنے افراد مندرجہ ذیل تحریروں کا حوالہ کر سکتے ہیں۔

  1. The  Constitution and Political history of PAK By Hamid Khan
  2. Dead reckoning  by Sarmila bose
  3. Documentary on 1971 separation of East Pakistan by the untold story.
  4. Qutub ud din Aziz- Blood and Tears
  5. Abdul Moin Chaudhary- Refuting Claim of 3 MillionTragedy of Error by kamal

About Muhammad Haris

Check Also

Open Ballot Chaos in the Senate of Pakistan

Senate is known to be the upper house for many developed and underdeveloped countries. In …